29 اگست 2026 - 16:37
امریکا نے ایران سے مالی تعاون کے الزام میں متحدہ عرب امارات میں بینک مصر کی شاخوں پر پابندیاں عائد کردیں

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں مصر کے دوسرے بڑے بینک بینک مصر کی شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے خارج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ایران سے متعلق مالی لین دین میں بینک کے مبینہ تعاون کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ متحدہ عرب امارات میں بینک مصر کی شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے منقطع کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام ایران کے خلاف واشنگٹن کی معاشی پابندیوں اور دباؤ میں اضافے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات میں بینک مصر کی شاخوں کے لیے روزمرہ لین دین میں امریکی ڈالر کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد ہوجائیں گی۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ ایران سے متعلق لین دین میں سہولت فراہم کرنے والے ادارے امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک اپنی رسائی کھو سکتے ہیں۔

انہوں نے بینک مصر کی اماراتی شاخوں پر ایران کی مسلسل مالی معاونت کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران کے خلاف معاشی پابندیوں میں اضافہ کیا ہے اور ان ممالک اور اداروں کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کی دھمکی دی ہے جو تہران کے ساتھ اقتصادی تعاون جاری رکھیں گے۔

امریکی حکام نے اس پالیسی کا مقصد ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے قبل ایران کے خلاف اپنی پالیسی کو ’’سخت ترین معاشی کارروائی‘‘ قرار دے چکے ہیں اور واشنگٹن کی حکمت عملی کو ایران کے خلاف ’’بے مثال معاشی جنگ اور تنہائی‘‘ کا نام دیا تھا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران اور امریکا کے تعلقات فوجی کشیدگی، پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت اور سلامتی سے متعلق اختلافات کے باعث مزید کشیدہ ہوئے ہیں، جس کے اثرات علاقائی تجارت اور عالمی سپلائی چین پر بھی پڑ رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha